April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
تعبيرية عن يوم المرأة العالمي - آيستوك

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے روز کہا ہے کہ خواتین کے لیے قانونی مساوات میں صدیوں کا وقت لگ سکتا ہے کیونکہ صنفی مساوات کی لڑائی وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مشکل جدوجہد بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “خواتین کے لیے قانونی مساوات میں 300 سال لگ سکتے ہیں کیونکہ جب خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو اس کے خلاف پرتشدد ردعمل بڑھتا ہے”۔

گوتیرس نے کل آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ “خواتین کے حقوق کے خلاف پرتشدد عالمی ردِ عمل سے خطرہ ہے اور بعض صورتوں میں کچھ ممالک خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں‘‘۔

انٹونیو گوتیریس۔ [رائیٹرز]

انٹونیو گوتیریس۔ [رائیٹرز]

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس کی سب سے بڑی مثال افغانستان میں ہے جہاں حکمران طالبان تحریک نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم سے محروم کردیا، خواتین کوگھر سے باہر کام کرنے اور پارکوں اور ہیئر سیلون سمیت عوامی مقامات پر جانے سے روک دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تبدیلی کی موجودہ شرح سے خواتین کے لیے قانونی مساوات کے حصول میں 300 سال لگ سکتے ہیں اور اس طرح کم عمری کی شادی میں بھی صدیوں کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل نے “جنسی بنیاد پر تشدد کی وبا جاری ہے اور صنفی بنیاد پر تنخواہ میں کم از کم 20 فیصد کا فرق ہے۔ خواتین کی سیاست میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہ نماؤں کے سالانہ اجتماع کا حوالہ دیا، جہاں مقررین میں صرف 12 فیصد خواتین تھیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ “ہم جن عالمی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ خواتین اور لڑکیوں کو سخت متاثر کر رہے ہیں۔ غربت اور بھوک سے لے کر موسمیاتی آفات، جنگ اور دہشت گردی تک” ہر محاذ پر خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

گوتیرس نے نشاندہی کی کہ گذشتہ سال سوڈان میں عصمت دری اور انسانی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں اور غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کا شکار ہونے والے فلسطینیوں میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ غزہ میں محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *