April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ورکس اینڈ ریلیف ایجنسی (اونروا) کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسے ختم کرنے کی مسلسل مہم کے باوجود کوئی اور ادارہ اس اہم ایجنسی کی جگہ نہیں لے سکتا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے نیویارک میں او آئی سی گروپ کے قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم گذشتہ 75 سالوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اہم لائف لائن کے طور پر اونروا کے کردار کو سلام پیش کرتے ہیں۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی کا اجلاس مشرق وسطی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی بارے بریفنگ کے لئے منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں اسرائیل، امریکا اور بعض دیگر مغربی ممالک کی جانب سے اس الزام کہ اس ادارے کے عملے کے 12 ارکان 7 اکتوبر کی کارروائیوں میں ملوث تھے کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارے اونروا کو فنڈ ز کی فراہمی معطل کرنے کے امریکا اور دیگر ممالک کے فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور اس طرح کے اقدامات پرفوری طور پر نظر ثانی کرنے اور ان کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ او آئی سی اس بات پر زور دیتی ہے کہ فنڈنگ کی یہ معطلی ظاہری طور پر مبینہ اور ایسے الزامات کا نتیجہ ہے جن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

مزید براں اس ادارے کے عملے کی تعداد 30 ہزار ہے جن میں سے محض مٹھی بھر ارکان کے خلاف غیر ثابت شدہ الزامات پر پورے ادارے کو نشانہ بنانا ااور اس کی فنڈنگ معطل کرنا انتہائی اقدام اور غیر انسانی طرز عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطینی پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 60 لاکھ کے قریب ہے اور ان سب کا انحصار اونروا پر ہے۔ اتنی بڑی تعدا د میں پناہ گزینوں اور ان کو امداد فراہم کرنے والے ادارے کو چند لوگوں کے خلاف غیر تصدیق شدہ الزامات کی مبینہ بداعمالیوں کی اجتماعی طور پرسزا نہیں دی جا سکتی اس لئے اس ادارے کو فنڈز کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے بصورت دیگر یہ اقدام لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے پہلے سے ناقابل برداشت مصائب کو مزید بڑھانے کا ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے ۔

پاکستانی مندوب منیر اکرم نے اونروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی کی اقوام متحدہ کوجنرل اسمبلی کو صورتحال سے آگاہ کرنے پر سراہا۔ انہوں نے غزہ کی پریشان حال آبادی کو خدمات اور ریلیف فراہم کرنے میں اونروا کے اہم کردار کی تعریف کی۔ پاکستانی مندوب نے غزہ میں امداد حاصل کرنے کے لئے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور فلسطینی عوام کو درپیش تباہ کن صورتحال پر روشنی ڈالی۔پاکستان مندوب نے فوری جنگ بندی اور غزہ کے محصور لوگوں کے لیے ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔

انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق بشمول ان کی واپسی کے حق کو برقرار رکھنے کے لیے او آئی سی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اونروا کی بھر پور حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ میں او آئی سی گروپ کی طرف سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت کوئی اور ادارہ غزہ میں پھنسے تباہ حال لوگوں کو غذائی امداد اور زندگی فراہم کرنے میں اونروا کی جگہ نہیں لے سکتا ۔

بیان میں غزہ کے حالیہ المناک واقعات پر روشنی ڈالی گئی جہاں اسرائیلی قابض فوج کے حملے میں 100 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ بیان میں غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پراسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن اقدام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کے 22 لاکھ مکینوں کی بقا کو خطرات کا سامنا ہے اور یہ ایک سنگین اور تشویشناک صورتحال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *