April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
An Israeli soldier takes up position on the border with the Gaza Strip in southern Israel, Monday, Jan. 29, 2024. U.S. and Mideast mediators appeared optimistic in recent days that they are closing in on a deal for a two-month cease-fire in Gaza and the release of over 100 hostages held by Hamas. But on Tuesday, Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu rejected the militant group's two main demands — that Israel withdraw its forces from Gaza and release thousands of Palestinian prisoners — indicating that the gap between the two sides remains wide. (AP Photo/Tsafrir Abayov)

اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے لیے ہر قسم کی اور بھر پور امریکی امداد کے پانچ ماہ مکمل ہونے کے بعد امریکی ڈیمو کریٹس نے جوبائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کر دیا ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر نظر ثانی کی جائے۔ امریکی ڈیمو کریٹس میں جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے جنگی حمایت پر اس سے پہلے اکا دکا آؤاز اٹھتی رہی تاہم یہ آواز اب طاقت پکڑ رہی ہے۔

اس بارے میں واضح رہے کہ نومبر میں صدارتی انتخاب متوقع ہے ۔ اس لیے امریکی رائے عامہ کے ساتھ عرب دنیا اور مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والے امریکی ووٹروں کے علاوہ آزاد سوچ کے حامل بعض دوسری امریکی شخصیات بھی تنقید کرتی ہیں ، جو صدارتی انتخاب کے تناظر میں کافی تشویش ناک بات ہے۔

دوسری جانب اب غزہ میں اسرائیلی جنگ کا چھٹا ماہ شروع ہو رہا ہے اور غزہ میں مزید تباہ کاری کے لیے شاید کچھ بچا بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ڈیمو کریٹس کا مطالبہ اہم اور قابل پذیرائی ہو سکتا ہے۔

ان ڈیمو کریٹس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کو اس بات سے مشروط کیا جائے کہ یہ سویلینز کے خلاف استعمال نہ ہو۔

سینیٹر کرس وان ہولین خارجہ امور کمیٹی کے رکن بھی ہیں نے کہا ہے ‘ یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم وہ تمام امکانات بروئے کار لائیں جو ہمارے لیے میسر ہیں۔ جوبائیڈن انتظامیہ جو اسرائیل کو فوجی امداد دیتی ہے اس نے اب تک ایسا نہیں کیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ مزید کتنے بچوں کو بھوک کا سامنا کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسرائیل پر اپنا اثر رسوخ بروئے کار لائیں اور وہ کچھ کریں جو کیا جانا چاہیے۔’

رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے سینیٹر ہولین نے کہا ‘ قانون سازوں نے جوبائیڈن انتظامیہ سے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے فوجی امداد کو اس وقت تک روکی دیا جائے جب تک نیتن یاہو کی حکومت غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم نہیں کرتی ہے۔’

تاہم امریکی سینٹر کی طرف سے اس اہم بیان کے بارے میں وائٹ ہاوس نے فوری طور پر کسی بھی ردعمل سے گریز کیا ہے ۔ حتیٰ کہ رد عمل مانگا بھی گیا تھا۔ البتہ جوبائیڈن انتظامیہ فی الحال اسرائیل کے لیے فوجی امداد کو کسی شرط سے مشروط کرنے سے انکاری ہے۔

سینیٹتر پیٹے والش نے کہا ‘ کتنے مزید گھر ، دکانیں، چائلڈ کئیر سنٹرز ، سکول اور ہسپتال تباہ ہونے کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا جائے گا کہ بہت ہو گئی۔ ‘والش نے منگل کے روز یہ بات امریکی سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران کہی ہے۔

واضح رہے غزہ میں 23 لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 30717 ہو چکی ہے۔ پوری غزہ کی پٹی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے ان بے گھر ہوچکے فلسطینیوں کو اب قحط کی زد میں قرار دیتے ہیں۔ تاہم امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی روکنے کی سلامتی کونسل کی اب تک تین قرار دادوں کو ویٹو کر دیا ہے۔

امریکہ میں موجود قانون ‘یو ایس آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ’ کانگریس کویہ اختیار دیتا ہے کہ غیر ملک کو ہتھیاروں کی فراہمی روک سے ، اس طرح کی کوئی قرارداد امریکی کانگریس نے منظور نہیں کی ہے۔ یہ اپنی جگہ اہم ہے کہ صدر کو اسے ویٹو کرنے کا بھی اختیار ہے مگر اس موضوع پر بحث سے ایک دوسرا پیغام ضرور جا سکتا ہے۔ جو ابھی ممکن نہیں ہوا ہے۔

البتہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایک قومی سلامتی میمورنڈم سے آگاہ کیا ہے جو امریکی ہتھیار حاصل کرنے والے ممالک کو بین الاقوامی قوانین پر قائم رہنے کا کہتا ہے۔

علاوہ،ازیں بدھ کے روزایوان نمائندگان کے درجنوں رکن ڈیموکریٹس نے بدھ کے روز بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے جس میں غزہ میں شہریوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں گہرے احساس کو خطرے کی فوری گھنٹی کا نام دیا گیا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اسلحہ اور فوجی امداد روکنے سے تباہ شدہ غزہ کے ملبے میں سے کتنے فلسطینیوں کے گھر اور بچے بچائے جا سکیں گے۔ وہاں تو ہر طرف تباہی اور بس تباہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *