April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Reuters Connect Feed Planning Live Stock PTS  17 My Account  HIDE  FILTER  MEDIA TYPE  CATEGORY  DATE  REGION  LANGUAGE  SOURCE CLEAR ALL APPLY  Trending  Editors' Choice  Story Clusters  Today in History  Latest News  Sports  Entertainment and Leisure  Top Photos  Top Videos  User Generated Content  Personal Stories  Video Timelines  Business and Finance  City Shots  Aerial View  Photo Collections  ALL Gennaro Sangiuliano MY SHORTCUTS  My Subscription All Text Pictures Video Audio Newest First 8 items SAVE SEARCH  set notifications 22/10/2023 15:05 ITALY-POLITICS/ Brothers of Italy party event in Rome REUTERS 31/05/2023 11:41 ITALY-POLITICS/SANGIULIANO Italian Minister of Culture Sangiuliano attends an event inside the Colosseum REUTERS Top Videos User Generated Content Latest News Sports Entertainment and Leisure Top Photos     22/10/2023 15:05 PICTURE ITALY-POLITICS/ Brothers of Italy party event in Rome SOURCE: REUTERS Brothers of Italy party event in Rome Italian Minister of Culture Gennaro Sangiuliano attends a Brothers of Italy party's event in Rome, Italy, October 22, 2023. (File photo: Reuters)

اطالوی وزیر ثقافت نے وینس میں منعقدہ آرٹ میلے میں اسرائیلی شرکت کے خلاف ہزاروں فنکاروں کی طرف سے تیار کیے ایک دستخطی محضر نامے کی مذمت کی ہے اور اسے شرمناک قرار دیا ہے۔ اس محضر نامے پر ہزاروں فنکاروں اور میلے کے شرکاء کے دستخط ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نسل کشی کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے اسرائیلی وفد کو اس میلے میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔

آرٹ میلے سے متعلق ان ہزاروں فنکاروں کا مطالبہ ہے کہ جس طرح دو سال قبل یوکرین پر حملوں میں ملوث روسی نمائندوں پر پابندی لگائی تھی، اسی طرح اسرائیل کے خلاف بھی پابندی لگائی جائے۔ اس مطالبے کے حق میں 12500 سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں تاکہ اپنے مطالبے کو مضبوطی کے ساتھ پیش کر سکیں۔

واضح رہے یوکرین پر روس نے 24 فروری 2022 کو حملہ کیا تھا اور اس جنگ کے نتیجے میں اب تک یوکرین کی ہلاکتوں کی تعداد 10500 سے کچھ زیادہ ہے۔ جبکہ ادھر اسرائیل کے غزہ پر حملے کے نتیجے میں صرف ساڑھے چار ماہ کے عرصے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ان فلسطینیوں میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد کے علاوہ، بہت سے شاعر، ادیب، فنکار اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔

اسی جانب دستخط کنندگان متوجہ کر رہے کہ اگر روسی نمائندوں کی اس میلے میں شرکت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، جیسا کہ لگائی گئی تھی تو اسرائیل کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ اس آرٹ میلے کا اہتمام ‘وینس آرٹسٹ بینالے’ کے نام سے کیا جاتا ہے۔ جو آج کل جاری ہے۔ یہ فن اور فنکاروں کے حوالے سے ایک بڑا بین الاقوامی میلہ ہوتا ہے۔

اس مطالبے کے حامی اسرائیل پر پابندی نہ لگانے پر اسے آرٹ میلے کے بجائے نسل کشی کے اتحادیوں کو میلہ کہنے لگے ہیں جبکہ اس مطالبے کی مخالف حکومتیں سمجھتی ہیں کہ فن کو اس طرح کے معاملات سے دور رہنا چاہیے اور آرٹ میلے کو اسرائیلی کی غزہ میں جنگ سے نہ جوڑا جائے اور اسرائیل کی مذمت سے گریز کیا جائے۔

جبکہ 12500 دستخط کرنے والے یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس بارے میں آرٹ میلے کی انتظامیہ خاموش نہ رہے، یہ دوہرا معیار حیران کن ہو گا۔ کیونکہ روس کے خلاف اس طرح خاموشی نہیں برتی گئی تھی۔

البتہ اسرائیل جو ان دنوں غزہ میں اپنا ‘موت کا میلہ’ سجائے ہوئے ہے اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ آرٹ میلے میں اسرائیلی سرکاری نمائندگی نہیں ہے۔ تاہم اٹلی کے وزیر ثقافت کا کہنا ہے کہ یہ 12500 سے زائد افراد کا دستخطوں کے ساتھ مطالبہ اظہار رائے پر اور اظہار فکر پر پابندی کے مترادف ہے۔ یہ نا قابل قبول ہے اور قابل مذمت ہے۔

اٹلی کے وزیر ثقافت نے مزید کہا ‘یہ اسرائیل کا بھی حق ہے کہ وہ اس میلے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرے اور لوگوں کو بتائے کہ اس نے بے رحم دہشت گردوں کے خلاف کیوں جنگ کر رہا ہے۔ ‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *