April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت ایسی ہو جو عوامی امنگوں کی عکاسی کرے۔

dsd

یکہ نے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ رپورٹ کردہ انتخابی بےضابطگیوں کی تحقیقات جلد از جلد مکمل ہونی چاہیے۔

پاکستان میں نئی حکومت بننے سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ نئی حکومت کی تشکیل پاکستانی قیادت کے زیر عمل ہے اور امریکہ اس میں فریق نہیں، یہ ایسی چیز نہیں کہ وہ اس پر تبصرہ کریں۔

میتھیو ملر نے کہا کہ وہ حکومت کو اس انداز میں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں جو پاکستانی عوام کی مرضی کی عکاسی کرے۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ پاکستان ایران سے قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک پائپ لائن بچھانے جا رہا ہے اور ماضی میں امریکہ نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کیا آپ کو اب بھی یہ خدشات ہیں؟

اس سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاک ایران گیس پائپ لائن پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا وہ معلومات لینے کے بعد جواب دیں گے۔

اس سے قبل 21 فروری 2024 کو بھی میتھیو ملر کہہ چکے ہیں کہ نئی حکومت کی تشکیل پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم واشنگٹن دنیا میں انٹرنیٹ کی ہمیشہ مکمل آزادی چاہتا ہے اور اس میں ایسے پلیٹ فارمز کا ہونا بھی شامل ہے جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس کی سروسز میں خلل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم انٹرنیٹ پلیٹ فارم چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں انٹرنیٹ پلیٹ فارم پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں کے لیے دستیاب ہوں۔ اور میرے پاس اس سے کے علاوہ کہنے کو کچھ نہیں۔‘

ایک سینیئر پاکستانی عہدیدار کی جانب سے الیکشن کے دوران دھاندلی میں مدد کرنے کے اعتراف پر امریکی ترجمان کا ردعمل جاننے کے لیے کیے گئے سوال کے جواب میں میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ رپورٹ دیکھی ہے۔ مداخلت یا دھاندلی کے ہر دعوے کی مکمل اور شفاف تحقیقات پاکستان کے اپنے قوانین اور طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔‘

ایک صحافی نے جب ترجمان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت پی ٹی آئی امیدواروں کے مینڈیٹ کا احترام کرے؟ تو ان کا کہنا تھا، ’میں پاکستان کے کسی اندرونی معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا، یقیناً نئی حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے میں پاکستان پر چھوڑتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *