April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Democratic Senators Chris Coons, Cory Booker, Richard Blumenthal, and Richard Durbin talk at the hearing of Senate Judiciary Committee for Christine Blasey Ford to testify about sexual assault allegations against Supreme Court nominee Judge Brett M. Kavanaugh on Capitol Hill in Washington DC, U.S., September 27, 2018. (File photo: Reuters)

دو سینئیر امریکی قانون سازوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ پر امید ہیں کہ انسانی بنیادوں پر مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان سے پہلے ہی جنگ میں وقفہ کر دیا جائے گا۔ یہ دونوں امریکی قانون ساز ان دنوں اردن کے دورے پر ہیں۔

قانون سازوں نے منگل کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ رائٹرز ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی پر امیدی ظاہر کی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے دورے کے دوران اسرائیلی اور عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ اردن مین ان کی ملاقات شاہ عبداللہ کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔

قانون سازوں رچرڈ بلومنتھل اورکرس کونز نے کہا انہیں بڑی امید ہے کہ رمضان سے پہلے حماس کی طرف سے یرغمالیوں کے بدلے میں جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن رچرڈ بلومینتھل کا کہنا تھا ‘ہم چند ہفتوں میں جنگی وقفہ دیکھیں گے اور یہ رمضان سے پہلے ہو گا ۔’

عرب ملکوں نے اردن کے زیر قیادت اس بارے میں اظہار تشویش کیا ہے کہ اسرائیل نے رمضان المبارک کے دوران فلسطینیوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ نیز جنگ میں شدت لانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب قطر اور مصر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں ۔ مذاکرات کا یہ دور پچھلے ہفتے قاہرہ میں ہوا ہے۔ حماس کا موقف ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء سے پہلے کسی صوترت یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گی۔

بلومینتھل نے کہا کہ ‘اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ اسرائیل جنگ میں ایک وقفے تیار ہے کیونکہ وہ غزہ میں شدید لڑائی کے ایک مرحلے کو سمیٹتا چاہتا ہے اور ہے اور ساری جنگ کے بجائے ایک علاقے میں جنگی توجہ مرکوز کرتا ہے’۔

امریکی سینٹر کے مطابق ‘ایک بار جب جنگ میں وقفے کا معاہدہ ہو جائے گا تو تو یہ ایک ایسے مذاکرات کی طرف راستہ کھولے گا ہے جو فلسطینیوں کے لیے خود حکمرانی پیدا کر سکتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو انھیں ان کی اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق دیتی ہے۔ ‘”

لیکن غزہ کے انتہائی جنوب کے رفح شہر میں اسرائیلی جارحیت کا امکان موجود ہے۔ جہاں اس وقت لاکھوں فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے، اسارئیلی کی رفح میں جنگ وقفے کے امکان کو متاثر کرے گی۔ امریکی سینیٹر نے رفح کے حوالے سے اسرائیل سے کہا ‘ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور رفح پر آگے بڑھنے سے پہلے نقل مکانی کی اجازت دے۔ .

سینیٹر کونس نے کہا’ اسرائیل کی حمایت اور حماس کے خلاف اس کی جنگ اور خود حکمرانی اور تنازعات کے خاتمے کے لیے فلسطینی عوام کی جائز خواہشات کی حمایت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *