April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US Secretary of State Antony Blinken takes part in a panel discussion at the Munich Security Conference (MSC) in Munich, southern Germany on February 17, 2024. (Reuters)

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں کے دوران اسرائیل کے لیے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو ‘نارملائز’ کرنے کے لیے بہترین موقع ہوگا۔

انہوں نے اس امر کا اظہار ہفتے کے روز اس وقت کیا جب وہ میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں پینل ڈسکشن میں شریک گفتگو تھے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دوریاستی حل کی بات کر رہے تھے۔

مبصرین کا دعویٰ ہے کہ اگلے نومبر سے پہلے نارملائزیشن کا امکان پیدا ہوجانا جہاں امریکی جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے ضروری ہے وہیں اتنی بڑئی جنگ سے گزرنے کے بعد اس کے مضراثرات سے بچنے کے لیے اسرائیل کو بھی ضرورت ہے کہ وہ تعلقات کی ‘نارملائزیشن ‘کے لیے خطے کے ملکوں کی خواہشات کا احترام کرے۔

بلنکن نے کہا ‘اس وقت ہر عرب ملک چاہتا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں ‘نارمل’ تعلقات کے انداز میں پرو لے۔ اسی صورت میں امن کی یقین دہانی ہو گی اور اسرائیل زیادہ محفوظ رہ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ فلسطین کا حل اس وقت جس قدر ضروری ہے وہ ماضی سے کہیں زیادہ ہے کہ اسی کی بدولت اسرائیلی سلامتی یقینی بنے گی۔’

واضح رہے امریکی جو بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑے معاہدے کے لیے کافی کام کر رکھا ہے تاکہ دونوں کے تعلقات ‘نارمل’ ہو جائیں۔

ادھر سعودی عرب نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فلسطینی آزاد ریاست سے مشروط کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *