April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Pope Francis speaks during the weekly general audience on February 14, 2024 at Paul-VI hall in The Vatican. (AFP)

ویٹی کن سٹی کی طرف سے غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے 28 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتل کو قتل عام قرار دیے جانے پر اسرائیل نے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ احتجاج ویٹی کن سٹی میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے سامنے آیا ہے۔

ویٹی کن سٹی میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں غزہ میں فلسطینیوں کے حق میں موقف کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ‘ غزہ جنگ کے بارے میں قانونی جواز ہونے یا نہ ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان حالات و واقعات کو پیش نظر نہ رکھنا جن کی وجہ سے یہ جنگ شروع کرنا پڑی قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔’

ایک روز قبل ہی پوپ کے نائب اور کارڈینئیل سیکرتری پیٹرو پیرولین نے اپنے اس موقف کو دہرایا تھا کہ اسرائیل کا حق دفاع یقیناً کسی نسبت تناسب کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، 30 ہزار کی ہلاکتیں دیکھ کر اس حق دفاع کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔’

پیرولین نے کہا ‘ بلا شبہ ہم سب غصے میں ہیں کہ جو کچھ غزہ ہو رہا ہے یہ اچھا نہیں ، لیکن ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ غزہ میں جنگ کے بجائے مسئلہ فلسطین کے دوسرے حل کی طرف جانا چاہیے۔’

بدھ کے روز ویٹی سٹی میں سرکاری اخبار کے طور پر کام کرنے والے اخبار نے بھی پوپ فرانسس کے نائب کی طرف سے سامنے آنے والے اس بیان کے پیغام کو ہی اپنے اداریے میں آگے بڑھایا۔

اخبار نے لکھا ‘ جو کچھ غزہ میں کیا جارہا ہے اسے کوئی بھی ضمنی نقصان کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہو سکتا ہے۔ نہ کوئی اس کا دفاع کر سکتا ہے۔ یہ حق دفاع بروئے کار ہے۔ یہ تو قتل عام ہے ۔’

اسرائیلی سفارت خانے نے اس بارے میں اپنے احتجاجی بیان میں کہا’ یہ بات قابل غور ہے کہ غزہ کی آبادی حماس کی پوری فعالیت کے ساتھ حمایت کرتی ہے۔ غزہ کے ہسپتال اور سکول حماس کے لیے ڈھال کے طور پر موجود ہیں۔ اس لیے غزہ کی تباہی اور ہلاکتوں کا سارا الزام حماس پر لگنا چاہیے۔ ‘

واضح رہے پوپ فرانسس کی طرف سے متعدد بار غزہ جنگ کے حوالے سے اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امن کی بات کی گئی۔ انہیں اس سلسلے میں یہودی گروپوں کی تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *