April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/pldtvibe.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

وائٹ ہاؤس کے ساتھ افطار کرنا ناقابل قبول ہو گا جو غزہ میں فلسطینی عوام کو قتل کرنے کے اسرائیلی حکومت کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں: مسلم کمیونٹی

Demonstrators gather in front of the White House during a rally in support of Palestinians in Washington, DC, on November 4, 2023. (AFP)

امریکی مسلم رہنماؤں کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے منگل کی رات کو ہونے والا افطار ڈنر منسوخ کردیا۔

کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد مچل کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تقریب اس لیے منسوخ کی گئی کیونکہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، بائیکاٹ کی فہرست میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے ابتدائی طور پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’امریکی مسلم کمیونٹی نے واضح کر دیا تھا کہ ہمارے لیے وائٹ ہاؤس کے ساتھ افطار کرنا ناقابل قبول ہو گا جو غزہ میں فلسطینی عوام کو قتل کرنے کے اسرائیلی حکومت کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ دعوت افطار غزہ میں اسرائیلی جنگ کی بھر پور اور مسلسل امریکی حمایت کے ماحول میں ہونا تھی۔ امریکی پالیسی کی وجہ سے کئی مسلمانوں نے وائٹ ہاؤس کی دعوت افطار کو ٹھکرا دیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اس دعوت افطار کے موقع پر مسلمانوں کے نمائندوں اور رہنماؤں سے ملاقات کا موقع چاہتے تھے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس موقع پر بعض اہم مسلمان مہمانوں اور مسلم حکام کے ساتھ جو بائیڈن عشائیے پر الگ سے ملاقات کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔ اس عشائیہ میں امریکی خاتون اول جل بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کے ساتھ ان کے شوہر بھی شریک ہونا تھے۔

بتایا گیا ہے کہ صدر جو بائیڈن مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ امریکہ میں کمیونٹی کے دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کے خواہاں تھے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرین جین پییئر نے کہا مسلمان رہنماؤں کی اس موقع پر موجودگی عشائیے سے زیادہ صدر سے ملاقات کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہونا تھی۔ جہاں وائٹ ہاؤس نے ان کی سننے اور ان کے سوالات پر بات کرنے کا ماحول ترتیب دیا ہو گا۔

توقع کی جارہی تھی اس سال کی دعوت افطار پچھلے سال کی دعوت افطار اور استقبال عید کی وائٹ ہاؤس میں جو بائیڈن کی دعوت سے کافی فرق ہوگی۔ پچھلے سال جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے مسلم کمیونٹی کے مہمانوں سے کہا تھا کہ ‘یہ آپ کا گھر ہے۔’ پچھلے سال وائٹ ہاؤس کی تقریب میں کانگریس کے مسلمان ارکان نے شرکت کی تھی جہاں الہان عمر راشدہ طلیب بھی موجود تھیں۔ لیکن اب وہ جو بائیڈن انتطامیہ کی اسرائیل میں غزہ جنگ بارے پالیسی کی سخت ترین ناقد ہیں۔

امریکہ میں مسلم امیریکن ایڈووکیسی گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس کی دعوت افطار کو قبول نہین کیا ہے۔ کیونکہ جو بائیدن نے اسرائیل کے لیے غیر مشروط جنگی امداد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے غزہ میں انسانی تباہی اور المیے نے جنم لیا ہے۔’ خیال رہے غزہ میں 32916 فلسطینی اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔

بہت سے امریکی مسلم اور عرب شہری جو بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے اس حمایت پر سخت ناراض ہیں کہ اس کے نتیجے میں صرف انسانی جانوں کا بھاری نقصان جاری ہے بلکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور غزہ ملبے میں بدل گیا ہے۔ امریکہ نے اس کے باوجود کئی بار جنگ بندی کی قرار داد کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *